حضرت غوث پاک کی دینی خدمات
اسلام نے علم کو بہت اہمیت دی ہے اور یہ فرمایا گیا ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ ایسے میں ہر عاشق خدا سے یہی توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ علم حاصل کرے گا۔ حضرت غوث پاک بھی حصول علم کے لیے سرگرداں رہے،اس سلسلے میں حضرت نے اپنے دور کے نامور اور مشائخ سے فیض حاصل کیا۔ اپ فقہ کے منتہی اور علوم قران و سنت کے معروف معلم تھے۔ اپ اپنے دور کے تمام عالموں میں افضل دائمی تھے ۔ اللہ تعالی بھی اپ پر مہربان تھا اس لیے اپ کو غیر معمولی حافظہ اور بہترین یاداشت عطا ہوئی تھی۔
جب حضرت غوث پاک نوجوان تھے تو اس دور میں اپ اپنی عظمت کی وجہ سے دور دور تک مشہور ہو گئے تھے۔
:نور کی تلوار
ایک مرتبہ عراق کے ایک سوفقہانے یہ فیصلہ کیا کہ وہ حضرت غوث پاک کے پاس جائیں گے اور ان سے الگ الگ علوم کے حوالے سے سوال کریں گے۔ ان فقہا کا مقصد حصول علم نہیں تھا بلکہ وہ حضرت غوث پاک کو لاجواب کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ جب وہ حضرت غوث پاک کی محفل میں آئے تو حضرت کے سینے سے نور کی ایک تلوار نکلی جس نے ان لوگوں کے سینے چاک کر دیے۔ عام لوگ تو اس منظر کو نہ دیکھ سکے لیکن جو روحانی طاقت رکھتے تھے انہوں نے یہ منظر دیکھا۔ جب اس تلوار نے ان لوگوں کے سینے چاک کر کئے تو ان علماء اور فقہاء نے بے قرار ہو کر اپنے کپڑے چاک کرنا شروع کر دیے۔ وہ اپنے سر کھول کر اور بال بکھرا کر بری طرح چیخنے لگے اور بلا آخر ان لوگوں نے حضرت غوث پاک کے قدموں میں اپنا سر رکھ دیا۔
حضرت غوث پاک نے ان لوگوں کو اپنے سینے سے لگایا اور پھر ایک سے فرمایا کہ تیرا سوال یہ اور جواب یہ ہے، اس طرح ان لوگوں نے حضرت غوث پاکی ولایت کو تسلیم کر لیا۔بعد میں ان لوگوں سے حال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب ہم حضرت شیخ کی محفل میں آکر بیٹھے تو ہمیں یوں محسوس ہوا کہ جیسے ہمارا تمام علم و دانش ختم ہو گیا ہے لیکن حضرت نے جب ہمیں سینے سے لگایا تو وہ علم واپس اگیا۔
محبت الدین انبار اپنی لکھی ہوئی تاریخ میں رقم طراز ہیں کہ حضرت غوث پاک کا شمار جیلان کے سربر آوردہ
زاہدین میں ہوا کرتا تھا۔
:بہر و بر کے مشائخ
ممتاز وجیہ عالم دین ابی العباس کے صاحبزادے محمد بن ابی العباس موصل الخضری الحسین نے فرمایا کہ 551 ہجری میں ان کے والد صاحب نے ایک خواب دیکھا کہ ایک وسیع میدان ہیں جہاں بحروبر کے تمام مشائخ موجود ہیں اور ان کے درمیان حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ جلوہ فرما ہیں۔ تمام مشائخ کے سروں پر عمامے موجود ہیں، کسی کے عمامے پر ایک اور کسی کے عمامے پر دو روائیں یعنی چادریں ہیں لیکن حضرت غوث پاک کے امام پر تین روائیں ہیں۔ انہوں نے خواب میں ہی سوچا کہ حضرت غوث پاک کے امام پر تین چادریں کیوں ہیں۔ اچانک ان کی انکھ کھل گئی اور انہوں نے کہا کہ حضرت غوث پاک ان کے سرہانے موجود ہیں اور فرماتے ہیں کہ ایک چادر تو شریعت کی ہے، دوسری حقیقت کی اور تیسری شرف و عزت کی۔
حضرت غوث پاک کا طریقہ تدریس :۔
ہر استاد کا طریقہ تدریس مختلف ہوتا ہے۔کچھ استاد ایسا ہوتے ہیں جو طالب علموں پر بڑے گراں گزرتے ہیں اور کچھ استازہ ایسے ہوتے ہیں جن سے طالب علم بخوشی علم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت غوث پاک کے طریقہ تدریس کو دل موہ لینے والا طریقہ کہا گیا ہے۔
حضرت غوث پاک نے درس و تدریس کی ابتداء 50 برس کی عمر میں کی اور اس وقت اپ کامل اور منتہی ہو چکے تھے۔ اپ کے مدرسے میں ویسے تو کہیں اساتذہ موجود تھے لیکن اپ خود ان اساتذہ سے زیادہ وقت صرف کر کے طلبہ کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتے۔ ان کے مدرسے میں روزانہ لازمی طور پر چار درس ہوتے تھے۔
تفسیر القران ۔•
تشریح حدیث۔ •
فقہ۔•
اختلاف ائمہ اہل سنت۔•
حضرت غوث پاک کے مدرسے میں دنیا کے کونے کونے سے طلبہ علم کی پیاس بجھانے کے لیے آتے تھے یہی وجہ تھی کہ چند سالوں میں ہی حضرت عوث پاک کے شاگرد دنیا بھر میں پھیل گئے
حضرت غوث پاک نہایت شافی طور پر فتویٰ دے دیتے تھے اور دینی سوالات کے جوابات بھی نہایت تسلی بخش انداز میں دیتے تھے اور اپنے دور کے سب سے اعلیٰ پائے کے مفتی تھے۔ اپ کا یہ کمال بھی تھا کہ اپ نہایت تیزی کے ساتھ فتویٰ دیتے تھے اور اسی وجہ سے کبھی یہ نہیں ہوا کہ کوئی فتویٰ اپ کے پاس ایک رات سے زیادہ رہا ہو اکثر اوقات اپ کو سوچنے اور غور و فکر کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ ساتھ ہی یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت غوث پاک اہل سنت کے چاروں مسالک حنفی، ہنبلی، شافعی اور مالکی کے مطابق فتوے دیا کرتے تھے اور اپ استفسار پڑھتے ہی جواب تحریر فرما دیتے تھے۔
علم و حکمت اور دانائی کی مثالیں :۔
علم و حکمت اور دانائی کی مثالیں یوں تو حضرت غوث پاک کی زندگی میں یکے بعد دیگر موجود ہیں لیکن ہم یہاں ان کی ان خوبیوں کی ایک مثال تحریر کر رہے ہیں۔ ایک مرتبہ اپ کے پاس یہ سوال آیا کہ ایک شخص نے یہ قسم کھائی ہے کہ وہ ایک ایسی عبادت کرے گا جس کے ساتھ کوئی دوسرا شریک نہ ہو گا اور اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو اس کی بیوی کو تین طلاق،حضرت غوث پاک کے پاس انے سے پہلے یہ سوال تمام علماء کے پاس جا چکا تھا اور انہوں نے اس کے جواب سے معذرت کر لی تھی لیکن حضرت غوث پاک نے فورا اس کا یہ فتویٰ جاری کیا کہ وہ شخص مکہ معظّمہ چلا جائے۔ اس کے لیے مطاف خالی کر دیا جائے اور وہ تنہا اس کا طواف کرے۔اس طرح اس کی قسم پوری ہو جائے گی۔یہ فتویٰ پانے کے بعد وہ شخص فورا مکہ معظمہ کے لیے روانہ ہو گیا۔ البتہ اس بارے میں راوی خاموش ہے کہ اس شخص کا یہ کام انجام پایا یا نہیں۔
حضرت غوث پاک کی طرف سے مریدوں کے لیے ہدایت
حضرت غوث پاک کی طرف سے مریدوں کو عاقبت بہتر بنانے کے لیے دی جانے والی چند ہدایات درج ذیل ہیں
راہ سلوک کہ رہبروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ علوم شریعہ اور اصطلاحات صوفیا سے واقف ہوں اور مریدین کو اس امر سے کبھی غافل نہیں ہونا چاہیے۔ راہ سلوک کے شیخ کے لیے ضروری ہے کہ وہ مرید کو ایسی تربیت دے جو صرف اللہ کے لیے ہو اور اس میں اپنی ذاتی معروضات شامل نہ ہو۔
حضرت غوث پاک نے مریدین کے ساتھ ساتھ مشائخ اور پیر صاحبان کے لیے بھی یہ فرمایا ہے کہ وہ مرید کے ساتھ ناسہانا سلوک روا رکھیں۔اس پر نظر شفقت رکھیں اور اس کے ساتھ نرم برتاؤ اور مہربانی کریں،ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی ہے کہ مشائخ اور پیر اپنے مرید کی تربیت ایسے کریں جیسے کوئی ماں اپنے شیر خوار بچے کی کرتی ہے یا باپ اپنی اولاد کے لیے کر سکتا ہے۔مشائخ یا پیر کے لیے ضروری ہے کہ وہ مرید پر اس قدر بوجھ ڈالیں جتنا وہ برداشت کر سکے اور پھر جب مرید گناہوں سے مجتنب ہو جائے اور یہ عہد کر لے کہ اب وہ ہر وقت اللہ تعالی کی اطاعت کرے گا اور وہ اپنے عہد پر سختی کے ساتھ قائم رہے گا تو پھر اس پر سختی جائز نہیں ہے۔
Tags:
حضرت غوث پاک