Har vali ki gardan par hazrat gous Pak Ka Qadam

ہر ولی کی گردن پر حضرت غوث پاک کا قدم 

Har-vali-ki-gardan-par-hazrat-gous-Pak-Ka-Qadam

اب ہم اتے ہیں ایک ایسی بات کی طرف جس کے بارے میں بہت سے لوگوں نے سن رکھا ہے لیکن یا تو اسے سمجھ نہیں پاتے ہیں یا پھر اس کی حقیقت سے ناواقف ہیں اور وہ بات یہ ہے کہ اکثر کہا جاتا ہے کہ ہر ولی کی گردن پر غوث پاک کا قدم، یہ بات بالکل حقیقی اور  مصدقہ ہے اور اس بات کی تصدیق کئی کتابوں سے بھی ہوتی ہے۔
حضرت شیخ ابو محمد یوسف العاقولی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ جب میں نے حضرت شیخ عدی بن ساغر کی خدمت میں حاضری دی تو انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ میں کہاں کا رہنے والا ہوں۔اس پر میں نے جواب دیا کہ میں بغداد کا رہنے والا ہوں اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کا مرید ہوں تو حضرت شیخ عدی نے فرمایا کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی تو اس وقت کے قطب ہیں اور مزید فرمایا کہ جب انہوں نے جذب و کشف کی حالت میں یہ ارشاد فرمایا تھا کہ میرا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے تو اس وقت تقریبا 300 علماء، درویش اور اولیاء اپ کی خدمت میں حاضر تھے اور ان سب نے اپ کی تائید فرمائی۔ ان میں رجامی غیب بھی موجود تھے انہوں نے بھی اپنی گردنیں جھکالی تھیں۔

اہل مراتب اور اہل معرفت کے حالات

اس حوالے سے ہم حضرت شیخ حیات بن قیس حرانی ک مثال دینا بھی چاہیں گے کہ انہوں نے بھی حضرت غوث پاک کے اس ارشاد کہ میرا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے کی کی تائید فرمائی ہے۔اس حوالے سے حضرت شیخ حیات بن  قیس حرانی فرماتے ہیں کہ 3رمضان المبارک 599ء میں ایک شخص حران کی مسجد میں حاضر ہوا اور مجھ سے درخواست کی کہ وہ مجھ سے بیعت کرنا چاہتا ہے۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ کیا تمہیں میرے علاوہ بھی کسی اور سے نسبت حاصل ہے اس نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی سے منسوب رہنے کے بارے میں بتایا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ نہ تو اسے حضرت غوث پاک کی خرقہ حاصل ہو سکی ہے اور نہ ہی اس سے روحانی تحفے ملے ہیں۔ اس پر میں نے اس سے کہا کہ میں نے بھی طویل عرصے تک ان کے سائے میں زندگی گزاری ہے اور ان کے نظر معرفت سے بہت ہی خوش گوار جام پیے ہیں۔ جس وقت وہ سانس لیتے تو ان کے دہن  مبارک سے ایک شعاع نکلتی جس سے پورا عالم منور ہو جاتا اور تمام اہل مراتب اور اہل معرفت کے حالات اپ کے سامنے آجاتے۔ جس پر پروردگار عالم نے انہیں یہ بات کہنے کا حکم دیا۔

قدمی ھذا علی رقبہ کلی ولی اللہ 

اس سلسلے میں ایک روایت یہ ہے کہ جب حضرت غوث پاک نے یہ اعلان فرمایا کہ میرا قدم تمام اولیاء کی گردن پر ہے تو فضا سے نورانی اجسام رکھنے والوں کا ایک گروہ نمودار ہوا۔ اس گروہ کو دراصل حضرت حضر علیہ السلام نے زمین پر جانے کی تاکید کی تھی اور فرمایا تھا کہ وہ جاکر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی تاکید کریں۔ اس موقع پر موجود سارے اولیاء کرام نے مندرجہ ذیل الفاظ میں غوث پاک کو ہدیہ تبرک پیش کیا۔

اے بادشاہ وامام ! اے قائم با امر الٰہی! اے وارث کتاب اللہ و سنت رسول اللہ، اے والی عالی مرتبت جس کی زمین و اسمان جس کا دسترخوان ہے اور تمام اہل زمانہ جس کے اہل و عیال ہیں۔ اے وہ ذی وقار! جس کی دعا سے بارش برستی ہے،جس کی برکت سے جانوروں کے تھنوں میں دودھ اتا ہے۔جس کے در پر اولیاء سر جھکاؤ ہوئے ہیں جس کے پاس رجال غیب کی 40 صفیں نیاز مندانہ طریقے سے کھڑی ہوتی ہیں۔ ان کی ہر صف میں 70 70 مرد ہیں۔ اے وہ عالی مقام جس کے ہاتھ کی ہتھیلی پر یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالی اس کے ساتھ لکھے گئے وعدے کو پورا کرے گا اور جس کی تین سالہ عمر شریف میں فرشتے اس کے گرد پھرتے تھے اور اس کی ولادت کی خبر دیتے تھے" ۔


میرا قدم تمام اولیاء کی گردن پر ہے 


اب ہم اس سلسلے میں حضرت شیخ ابو سعید قلدی کی مثال بھی دیتے ہیں۔ انہوں نے بھی حضرت غوث پاک کے اس ارشاد کی تائید فرمائی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی نے جب یہ فرمایا کہ میرا قدم تمام اولیاء کی گردن پر ہے تو اس وقت حضرت غوث پاک رحمتہ اللہ علیہ کے دل پر تجلیات الٰہی کا نزول ہو رہا تھا اور اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے ان کے لیے ایک خلعت باطنی روانہ کیا گیا جو ملائکہ مقربین کی ایک جماعت لائی تھی اور اس وقت اولیاء اللہ کا جھرمٹ حضرت غوث پاک کے پاس موجود تھا۔ ان کی موجودگی میں وہ خلعت حضرت غوث پاک کو پہنایا گیا۔ اس وقت ملائکہ اور رجال الغیب حضرت غوث پاک کی مجلس کے ارد گرد اس طرح کھڑے تھے کہ اسمان کے کنارے ان سے بھرے نظر آتے تھے جب روئے زمین کے ہر ولی نے حضرت غوث پاک کی تائید کی۔ 

حضرت شیخ ماجد الکردی فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبدالقادر جیلانی نے یہ اعلان فرمایا کہ ان کا قدم تمام اولیاء کی گردن پر ہے تو روئے زمین پر کوئی ولی ایسا نہ تھا جس نے اپ کی تائید نہ کی ہو۔ اس وقت نہ صرف انسانوں نے ہی حضرت غوث پاک کی تائی کی بلکہ صالح جنات نے بھی ان کے مرتبے کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی گردنیں جھکا لیں۔ اس وقت جنات کی دنیا کے سارے افراد حضرت غوث پاک کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے انہیں ہدیہ اسلام پیش کیا اور اپنے کراہ گناہوں کا اعتراف کرنے کے بعد واپس روانہ ہو گئے۔



قدمی ھذا علی رقبہ کلی ولی اللہ۔


حافظ عبدالعز عبدالمغیث بن عرب بغدادی فرماتے ہیں کہ ایک بار جب ہم چند افراد نے حساب میں حضرت عبدالقادر جیلانی کی خانقاہ میں حاضری دی تو اس وقت بڑی تعداد میں علماء ان کے خدمت میں حاضر تھے۔ ان مشائخ میں حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی اور حضرت شیخ ابو نجیب سہروردی کے علاوہ ایسے جید بزرگان دین بھی موجود تھے جن میں ہر ایک اسمان ولایت کا افتاب و مہتاب تھا۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی منبر پر جلوہ افروز تھے وہ خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک ان پر حالت کشف طاری ہوئی اور انہوں نے کیفیت جذب میں اللہ کے حکم سے ارشاد فرمایا۔

قدمی ھذا علی رقبہ کلی ولی اللہ۔  

اس وقت وہاں موجود اصحاب علم و فضل اور اولیاء نے ان کا یہ حکم سن کر سر تسلیم خم کر لیا۔ وہیں دنیا کے ہر خطے اور گوشے میں موجود تمام اولیاء، قطب، ابدال اور غوث نے ان کی یہ آواز سن لی۔اس وقت نامور بزرگ اور شیخ علی بن الہیتی بھی اس مجلس میں موجود تھے۔ وہ فورا اپنی جگہ سے اٹھ کر ممبر تک پہنچنے اور حضرت غوث پاک کا قدم اپنی گردن پر رکھ لیا وہاں موجود حاضرین اور علماء نے بھی ان کی تقلید کی۔
شیخ خلیفہ اکبر فرماتے ہیں کہ جب میں نے یہ بات سنی کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی نے یہ فرمایا ہے کہ تمام اولیاء کی گردنوں پر میرا قدم ہے تو اس کے بعد میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔ جب میں نے ان سے عرض کیا کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ نے یہ کہا ہے کہ میرا قدم گھر والی کی گردن پر ہے تو  حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
    شیخ عبدالقادر نے سچ کہا ہے کہ وہ کیوں نہ کہتے جب 
کہ وہ قدم زمانہ اور میری زیر نگرانی ہے"۔  


:نتیجہ
     حضرت عبدالقادر جیلانی کے اس ارشاد کی وضاحت  


مندرجہ بالا مثالوں سے حضرت عبدالقادر جیلانی کے اس ارشاد کی وضاحت تو ہو گئی کہ میرا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے۔ اب ہم اس حوالے سے پیش آنے والے ایک مسئلے کی طرف آتے ہیں۔ کچھ لوگ حضرت غوث پاک کے مذکورہ ارشاد کا غلط مطلب اخذ کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح انسانیت کے رتبے کی توہین ہوتی ہے یا پھر معاذ اللہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے غرور یا تکبر کی وجہ سے یہ ارشاد فرمایا ہے لیکن ہم وضاحت کرنا چاہیں گے کہ قدم کا مطلب صرف پیر ہی نہیں ہے بلکہ اس کا ایک مطلب عمل ،طریقہ ،راستہ اور طریقت بھی ہے۔ اس حوالے سے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے قدمی کا جو لفظ استعمال کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ میرا طریقہ ہر ولی کے............... اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا طریقہ  ولایت و پیغمبروں اور انبیاء کے استثنیٰ کے ساتھ ہر ولی سے برتر ہے۔
اس سلسلے میں شیخ الاسلام حضرت شیخ شہاب الدین عسقلانی کا بیان بڑی اہمیت کا حامل ہے جب ایک مرتبہ ان سے قدمی کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کا ظاہری مطلب تو یہ ہے کہ ان سے ایسی فارق عادات کرامتیں ظاہر ہوتی رہیں گی جن سے انکار سوائے معاندین کے اور کوئی فرد نہیں کر سکے گا کیونکہ اللہ تعالی نے کرامتوں کے لیے یہ اصول بتایا ہے کہ اگر کسی سے  مطابق شریعت کرامتیں ظاہر ہوں جیسی کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی سے ہوتی رہی ہیں تو وہ مقبول ہیں لیکن اگر مطابق شریعت نہ ہوں تو وہ مردود ہیں ۔
جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم