Hazrat gose Pak ki tsanif or shairy

حضرت غوث پاک کی تصنیف اور شاعری۔       

حضرت-غوث-پاک-کی-تصنیف-اور-شاعری۔


حضرت غوث پاک  کے صاحب اسلوب نثر نگار۔ قادر الکلام  شاعر اور شیریں بیان واعظ کی تھے۔ اپ کی کئی تصانیف
 ہیں۔ ذیل میں آپ کے چند مفید کتب کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔

:غنیتہ الطالبین

اس کتاب میں دینی علوم،احکام شریعت اور راہ طریقت کی وضاحتوں پر مبنی ذخیرہ موجود ہے ۔ یہ کتاب عربی میں
 تصنیف کی گئی ہے ۔ بعد میں اس کے فارسی اور دیگر زبانوں میں بےشمار ترجمے ہوئے ہیں اور اردو میں بھی اس کا ترجمہ ہوا ہے ۔ اس میں شریعت و طریقت کے مسائل کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ جن کی تفصیل درج ذیل ہے ۔

 :پہلا حصہ

،اس جزو میں دین کے پانچ ارکان یعنی توحید ،نماز ،روزہ زکوۃ اور حج کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ان سے متعلق جملہ احکامات وہ شرائط کی تشریح بھی کر دی گئی ہے۔

:دوسرا حصہ 

اس جزو میں اسلامی اخلاق و آداب کے مضامین موجود ہیں۔ اس میں کھانے پینے کے اداب ،اٹھنے بیٹھنے کے احسن طریقے، نکاح کی غرض وہ غایت، حکمت ،طریقے اور اداب، بال منگوانے یا کتروانے کے اصول، داڑھی کی فرضیت یا اتباع سنت کے اصول ،استنجا کرنے ،غسل و طہارت کے طریقے، ملبوسات کے بارے میں تفصیلی بیان ،استراحت اور بیداری سے پہلے اور بعد میں کیے جانے والے اعمال ووظائف اور سفر کرنے کے آداب ،اصول اور طریقے بیان کیے گئے ہیں۔

:پانچواں حصہ

اس حصے میں تاریخی مضامین ہیں۔ اسلام میں فرکہ پرستی ،مختلف فرقوں کی تشکیل کی وجوہات، مسالک دینیہ، فرقوں کے بانیوں کے حالات اور عقائد بیان کیے گئے ہیں۔

:چھٹا حصہ

اس میں شب قدر، رمضان المبارک، بزرگ ایام اور بزرگ مقامات کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ انسانوں کی روحوں ،نفس، شیطان، روح، اعوذ کی تشریح ،مردے کی تجہیز و تکفین کے طریقے، راگ رنگ کی ممانعت، نماز تراویح ،دین کی فضیلت اور آداب مریدان جیسے موضوعات کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔


حضرت غوث پاک کی تصنیف اور شاعری

کتاب کی عظمت و فضیلت •    

اس کتاب کی عظمت و فضیلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کا ترجمہ متعدد زبانوں میں کیا گیا ہے۔ عالم دین علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی نے اس کا ترجمہ فارسی زبان میں کیا جہاں سے اس کا اردو ترجمہ ہوا۔

:الفتح الربانی الموسوم فیوض یزدانی •
  (خطبات کا مجموعہ)

اس کتاب میں حضرت غوث پاک کی 62 مجالس میں دیے ہوئے واعظ اور خطبات موجود ہیں۔ یہ کتاب حضرت غوث پاک کے نواسے سید عفیف الدین نے مرتب کیا۔ یہ کتاب پہلے عربی میں تحریر کی گئی تھی اور بعد میں اس کے بھی اردو فارسی اور دیگر زبانوں میں تراجم ہوئے۔

فتوح الغیب: (تصوف اور معرفت کے •
 مضامین پر مشتمل)

اس کتاب میں علم تصوف اور معرفت کی مضامین پر مشتمل چھوٹے چھوٹے خیالات ہیں۔ یہ تصنیف مختصر ہے۔ مگر جامعہ بھی ہے۔ اس میں موجود مضامین میں بڑی حکمت، دانائی ،علم و فضل اور قرب الٰہی کے حوالے سے حضرت غوث پاک کے خیالات درج ہیں۔ اس کا ترجمہ فارسی میں حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی نے کیا۔ اس کے علاوہ اردو اور دیگر کئی زبانوں میں بھی اس کے تراجم ہوئے۔

حضرت غوث پاک کی تصنیف اور شاعری۔       


قصیدہ غوثیہ: (عربی کلام کا مجموعہ) •
 

حضرت غوث پاک اعلیٰ درجے کے نثر نگار اور قادر الکلام شاعر بھی تھے۔ قصیدہ غوثیہ حضرت کے عربی کلام کا مجموعہ ہے۔ اس کلام کا فارسی اور اردو زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس میں 14 قصائد ہیں جو اہم ترین ادبی حیثیت رکھتے ہیں۔

مکتوبات محبوب سبحانی: (خطوط کا •
  (مجموعہ 

حضرت غوث پاک نے وقتاً فوقتاً اپنے مریدین اور اہل خانہ کو جو خطوط تحریر فرمائے یہ ان خطوط کا مجموعہ ہے۔

جلال الخواطر:(45 مختلف مجالس کے •
 (ارشادات

اس کتاب کا نام نورانی جلاالخواطرفی کلام شیخ عبدالقادر ہے۔ اسے حضرت غوث پاک کے صاجزادے حضرت شیخ عبدالرزاق نے تحریر فرمایا ہے۔ اس کتاب کے فارسی اور اردو تراجم ہو چکے ہیں۔ اردو ترجمہ مولوی عبدالکریم طغلی نے کیا ہے۔ اس تصنیف میں حضرت غوث پاک کے وہ ارشادات ہیں جو اپ نے جمعہ 9 رجب 546سے 14 رمضان 546 ہجری کے درمیان دیئے ۔جن مجالس میں یہ ارشادات دیے گئے ان کی تعداد 45 ہے۔ حضرت کے صاحبزادے نے ان ارشادات کو حرف با حرف تحریر کر کے جلال الخواطر کے نام سے مرتب فرمایا۔

(رسالہ غوث الاعظم: ( اقوال پر مشتمل •

اسے حضرت غوث پاک نے معتقدین نے مرتب کیا۔ اس میں حضرت غوث پاک کے اقوال مرتب کیے گئے ہیں۔

:سرالاسرارفیمایحتاج الیہ الابرار •

یوں تو کتاب خصوصی طور پر صوفیا اور درویشوں کے لیے تحریر فرمائی گئی ہے مگر راہ سلوک کے دیگر راہی بھی اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ یہ کتاب پہلے عربی میں لکھی گئی اور بعد میں اس کا اردو ترجمہ ہوا ہے۔

(چہل کاف: (تین عدد اشعار پر مشتمل •

یہ تصنیف اس لحاظ سے خوبی کی حامل ہے کہ یہ صرف تین عدد اشعار  پر مشتمل ہے۔ اس کے چھ مصرعے اور کل 36 الفاظ ہیں۔
جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم