Hazrat gous Pak رحمۃ اللّٰہ علیہ ki dunya may amad

         :حضرت غوث پاک کی دنیا میں آمد۔         

حضرت غوث پاک کی دنیا میں آمد:


جب انسان یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنا دوست بنا لے تو وہ اللہ کی خوشنودی  حاصل کرنے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دیتا ہے،اسے ایک ایک قدم اٹھاتے ہوئے اللہ کے احکامات کا خیال ہوتا ہے۔
          تاریخ اسلام پر نظر ڈالی جائے تو بے شمار ایسے لوگ۔ نظر اتے ہیں جنہوں نے خود کو اللہ کے لیے وقف کر دیا اور اللہ نے بھی انہیں خوب خوب نوازا۔ زیر نظر  ایک ایسے ہی بزرگ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ جنہیں غوث الاعظم دستگیر رحمت اللہ تعالٰی علیہ بھی کہا جاتا ہے کہ بارے میں ہے۔

سب سے پہلے حضرت غوث پاک کے آباؤ اجداد اور  ہمعصروں  کے بارے میں معلومات درج کرتے ہیں۔
آپ کے والد کا نام حضرت سید ابو صالح رحمۃ اللہ تعالی علیہ تھا اور ان کا تعلق سادات گھرانے سے تھا۔ آپ کے نانا کا نام عبداللہ صولمعی تھا جو صاحب کرامات بزرگ تھے۔ اپ کی والدہ کا اسم مبارک حضرت سیدہ الم الخیر فاطمہ رحمت اللہ تعالی علیہ تھا جو نہایت نیک اور پاکیزہ خاتون تھیں ۔

حضرت غوث پاک کا سلسلئہ نسب:


حضرت غوث پاک حسنی ،حسینی سید ہیں۔ حضرت غوث پاک کا سلسلہ نسب والد کی طرف سے 11 پشتوں سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ملتا ہے۔ جبکہ والدہ محترمہ کی طرف سے یہ سلسلہ 15 پشتوں سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے جا ملتا ہے۔

حضرت غوث پاک کی جائے
 پیدائش

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی جائے پیدائش شمالی فارس میں بہرہ خضر کے جنوبی ساحل پر گیلان نامی صوبہ کی ایک بستی "نیف" ہے. آج کل گیلان کا علاقہ ایران میں شامل ہے۔ گیلان کو عربی میں جیلان کہا جاتا ہے اسی حوالے سے حضرت کو جیلانی کہا جاتا ہے۔
حضرت غوث پاک رحمت اللہ تعالی علیہ کی مادری زبان فارسی اور ترکی تھی لیکن اپ عجم کے علاقوں بغداد وغیرہ میں بھی رہے اور وہاں اپ نے عربی سیکھی۔ اپ کا کلام فارسی اور عربی میں موجود ہے۔ حضرت غوث پاک رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے قصیدہ غوثیہ (عربی) میں خود کو جیلی (جیلانی) لکھا ہے۔


:حضرت غوث پاک کی تاریخ پیدائش 


آپ کے بارے میں اندازہ ہے کہ آپ 470 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اس زمانے میں دنیا بھر میں مسلمان عروج وہ زوال سے گزر رہے تھے کہیں وہ فتوحات حاصل کرتے رہے تھے اور کہیں نصاریٰ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ کئی جگہوں پر مسلمان کشمکش کا شکار تھے وہ فرقہ بندیوں اور ذات پات کے چکروں میں پڑے ہوئے تھے
      حضرت غوث پاک رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے تقریباً 90 برس کی عمر پائی۔


حضرت غوث پاک رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی پیدائش سے پہلے کا دور

اپ کی پیدائش سے سو سال پہلے تک کا دور مسلمانوں کا سنہری دور تھا۔ ان کی حکومت اسپین سے ہندوستان تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس وقت اہل یورپ نے مسلمانوں کے علمی، ادبی ،سائنسی اور روحانی ترقی دیکھی تو انہیں احساس ہوا کہ اس طرح تو وہ کبھی سر نہ اٹھا سکیں گے اور انہوں نے مسلمانوں سے جنگیں شروع کردیں۔ یہی صلیبی جنگیں کہلاتی ہیں۔ اس وقت یورپ نے 30 لاکھ فوج ترتیب دی جس کا سپہ سالار برطانیہ کے بادشاہ چرڈ (ز)  تھا۔ برطانوی تاریخ میں اس شیر دل رچرڈ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اس فوج کو مسلمانوں کے شیر دل سپہ سالار سلطان صلاح الدین ایوبی نے عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔ اس دور میں اہل یورپ کے لیے مشکل ہو گیا کہ مسلمانوں کو بہ زور طاقت سے شکست دے سکیں چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ مختلف چالیں چلی جائیں۔ انہوں نے کئی چالیں چلیں جس میں مسلمانوں کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنا بھی  تھا لیکن ایسے میں مسلمان اہل علم وہ قلم میدان  عمل میں آگئے اور انہوں نے اہل یورپ کی سازشوں کو بے نقاب کرنا شروع کر دیا، یوں وہ شکست سے دوچار ہونے لگے۔



   

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم