حضرت غوث پاک رحمت اللہ علیہ کے روزمرہ معمولات
حضرت غوث اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے نہ صرف روحانی طور پر ترقی کی منازل طے کیں بلکہ وہ ظاہری طور پر بھی دوسروں کے لیے قابل تقلید رہے ہیں۔ انہوں نے عام لوگوں میں رہ کر زندگی کے ایام گزارے۔ یہ نہیں ہوا کہ انہوں نے دنیا کو ترک کر دیا ہو بلکہ انہوں نے زندگی گزارنے کے لیے ایسے زرین معمولات واضح کر دیے جن پر چل کر کوئی بھی انسان کامیاب زندگی گزار سکتا ہے۔ ذیل میں حضرت غوث پاک کے معمولات درج ذیل ہیں۔
:لباس
حضرت غوث پاک انتہائی صاف ستھرا،پاکیزہ اور معطر لباس زیب تن کیا کرتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ جب وہ مجاہدات و ریاضات نے مصروف ہوتے تھے تب انہوں نے بوسیدہ اور شکستہ لباس بھی زیب تن کیا ہے لیکن جب رشد و ہدایت اور درس و تدریس کا وقت آیا تو انہوں نے نہایت صاف ستھرا اور معطر لباس پہنا۔ کچھ لوگوں کو اگر یہ غلط فہمی ہے کہ بہترین لباس پہننا غیر شرعی ہے تو وہ اپنے غلط فہمی دور کر لیں کیونکہ یہ غیر شرعی فعل نہیں ہے۔ مسلمانوں کو یہ اجازت ہے کہ وہ اپنی حلال کمائی سے کوئی بھی اچھا کپڑا پہن سکتے ہیں لیکن ایسے وقت میں ان کے ذہن میں یہ بات ضرور رہنی چاہیے کہ ان کے دلوں میں غرور و تکبر نہ ہو۔ اس سلسلے میں سب سے مستند مثال حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دی جا سکتی ہے کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم بوقت ضرورت نیا اور بہترین لباس پہنا کرتے تھے۔
حضرت غوث پاک بہترین لباس تو پہنتے تھے لیکن اس میں بھی ان کی خلق خدا کی خدمت اور مدد کی ایک حکمت موجود تھی وہ اس طرح کے حضرت غوث پاک کبھی بھی قیمتی کپڑا ایک دو دن سے زیادہ نہیں پہنتے تھے اور کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ نیا لباس صرف ایک دن ہی پہنا کرتے تھے اور اگلے روز وہ لباس کسی غریب یا مسکین کو ہدیہ کر دیتے تھے۔
:عبادات
حضرت غوث پاک رحمت اللہ علیہ کے روزمرہ معمولات
حضرت غوث پاک صوم وصلٰوہ کے پابند تو تھے ہی لیکن عبادات میں ان کا استغراق بہت زیادہ ہوتا تھا۔ وہ عام طور پر روزے سے رہا کرتے تھے اور اکثر نماز کے دوران ایسا ہوتا تھا کہ رکوع یا سجدے کی حالت میں ساری ساری رات گزار دیتے تھے۔ جب وہ کثرت سے عبادات شروع کر دیتے تھے تو خاصے کمزور ہو جاتے تھے۔ آپ ویسے تو تمام وقت وضو کی حالت میں رہتے تھے لیکن اس کے باوجود ہر مرتبہ تازہ وضو فرماتے تھے۔ نماز عشاء کے بعد قران پاک کی تلاوت کرتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی تھی۔ اکثر ایک تہائی رات میں دو نفل ادا کرتے تھے اور ہر رکعت میں سورۃ رحمٰن یا سورہ مزمل کی تلاوت کرتے، کم سے کم ایک سو مرتبہ سورہ اخلاص کی تلاوت فرماتے۔
ویسے تو حضرت غوث پاک زیادہ نیند نہ لیتے تھے لیکن اگر کبھی نیند کی خواہش ہوتی تو رات کی ابتداء میں تھوڑی دیر کے لیے سو جاتے تھے اور پھر جلد بیدار ہو کر عبادت الٰہی میں مشغول ہو جاتے تھے۔ رات میں اکثر حضرت غوث پاک یاد الٰہی، مراتبہ اور مشاہدات قدرت الٰہی کرتے تھے۔ ان کی ایک عادت یہ بھی تھی کہ عشاء کی نماز کے بعد کبھی گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے۔
: خوشبویات کا استعمال
حضور پاک صلیٰ اللہُ علیہِ وآلہ وسلّم خوشبو کا استعمال فرماتے تھے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق ہو وہ خوشبو نہ لگائے؟ اس طرح حضرت غوث پاک بھی خوشبویات کا استعمال کرتے تھے۔ وہ روزانہ غسل کے بعد نیا لباس زیب تن کرتے اور محو عبادت ہو جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ عنایت کی تھی کہ ان کے پسینے کو بھی معطر کر دیا تھا۔ اس بارے میں مفتی اعراق حضرت محی الدین ابو عبداللہ محمد بن حامد البغدادی بیان فرماتے ہیں۔ ’’طیب الاعراق‘‘ یعنی حضرت غوث پاک کا پسینہ خوشبودار تھا۔
:کشش وجاہ وجلال چشم
اللہ تعالی نے حضرت غوث پاک پر جہاں اور بہت سی عنایات فرمائی تھی وہیں ایک عنایت یہ بھی تھی کہ ان کی انکھوں میں عجیب کشش اور تاثیر رکھی تھی اور ساتھ ہی ان کی نظر میں بڑا جاہ وجلال بھی تھا۔ ان میں یہ خوبی تھی کہ وہ کسی سنگدل شخص کی طرف دیکھتے تو وہ ڈھیلا پڑ جاتا تھا اور اس کا دل پھر سنگ نہیں رہتا تھا بلکہ موم ہو جاتا تھا۔ حضرت غوث پاک کی نظر کے اثر کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب وہ کسی پرندے کو غور سے دیکھتے تھے تو وہ گر کر تڑپنے لگتا یا پھر حضرت غوث پاک کے سامنے حاضر ہو جاتا تھا۔
:تاثیر دست مبارک
اللہ تعالی نے حضرت غوث پاک کے دست مبارک میں ایسی تاثیر دی تھی کہ جب وہ کسی شخص کے سینے یا جسم کے کسی حصے پر اپنا دست مبارک رکھتے تو اس شخص کو وہاں ٹھنڈک کا احساس ہوتا تھا۔ ان کے ہاتھ کی تاثیر سے صرف انسان ہی فیض یاب نہیں ہوتے تھے بلکہ فرشتے اور ماوراء مخلوقات بھی ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیتی تھیں۔
اس سلسلے میں حضرت شیخ علی بن ادریس یعقوبی نے بیان فرمایا ہے کہ میرے شیخ ایک مرتبہ مجھے حضرت غوث پاک کے پاس لے گئے حضرت غوث پاک ہمیں دیکھ کر کچھ دیر خاموش رہے اور پھر ان کے وجود سے نور کی شعاعیں پھوٹنے لگیں۔ اس وقت مجھے اہل قبوروفرشتے بھی نظر آئے اور ساتھ ہی اور کئی رازوں کا مجھ پر انکشاف ہوا۔ اس پر میرے شیخ حضرت علی ہسیبتی نے حضرت غوث پاک سے میرے بارے میں فرمایا کہ یہ خدشہ ہے کہ میری عقل زائل ہو جائے گی اس وقت حضرت غوث پاک نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر رکھ دیا اس کے بعد مجھے کوئی خوف لاحق نہ ہوا۔
:انداز نشست وہ برخواست
حضرت غوث پاک کا انداز نشست وہ برخواست مختلف ادوار میں مختلف رہا ہے۔ جب وہ مجاہدات وہ ریاضات کرتے تھے تو ان کا بستر زمین ہوا کرتی تھی، کھلا آسمان لبادے کی حیثیت رکھتا تھا اور کہیں اینٹ یا پتھر وہ تکیے کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ لیکن پھر جب رشد وہ ہدایات کا دور آیا تو سب کچھ بدل گیا اور ان کا انداز شاہانہ ہو گیا۔ اس سلسلے میں حضرت ابو صالح مختلف روایات کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں کہ حضرت غوث پاک اعلیٰ لباس زیب تن کیا کرتے تھے وہ طلسیان اوڑھتے تھے اور سواری کے لیے خچر استعمال کرتے تھے۔ وہ بلند کرسی پر بیٹھتے تھے اور نہایت آہستگی اور بردباری کے ساتھ کلام کیا کرتے تھے۔ ان کے کلام میں اتنی تاثیر تھی کہ جب وہ خطاب فرماتے تھے تو لوگ عالم استغراق میں آجاتی تھے اور ان کی توجہ کا مرکز صرف اور صرف حضرت غوث پاک ہوا کرتے تھے۔
حاضرین اور عام لوگوں کا یہ وطیرہ تھا کہ اگر حضرت غوث پاک کوئی حکم فرما تے تو وہ جلد از جلد اس کی بجا آوری کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
حضرت غوث پاک جب جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے گھر سے نکلتے تو لوگ ہجوم کی صورت میں ان کے آس پاس جمع ہو جاتے تھے اور ان سے اپنے حق میں دعائیں کرواتے تھے۔
حضرت غوث پاک کی شخصیت اتنی متاثر کن تھی کہ ہر شخص ان سے پیار کرتا تھا۔
:ظاہری شخصیت
حضرت غوث پاک بہت بارعب اور پ پُرہیبت شخصیت رکھتے تھے۔ ویسے تو ان کے مزاج میں بہت تحمل تھا اور انہیں غصّہ نہیں آتا تھا لیکن ان کا چہرہ مبارک پر جلال تھا۔
حضرت غوث پاک جب اپنے ارادات مندوں کے ساتھ تشریف فرما تھے تو ان کے گرد ایک ایسی ماورائی مخلوق گھیرا ڈال دیتی تھی جو دیکھنے میں شیر معلوم ہوتے تھے۔
حضرت غوث پاک کے زمانے میں کچھ ایسے اولیاء گزرے ہیں جو ولایت کے آسمان کے افتاب و مہتاب تھے۔ ان میں حضرت شیخ بقا، شیخ علی ہسیبتی اور شیخ ابو سعید قلدی شامل ہیں۔ یہ تمام بزرگان دین حضرت غوث پاک کا نہایت ادب و احترام کرتے تھے۔ روایت ہے کہ جب حضرت غوث پاک کے خانہ مبارک میں یہ حضرات تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے گھر کے دروازے پر پانی چھڑکتے اور جاروب کشی کرتے۔ وہ حضرت غوث پاک کی طرف سے اندر جانے کے منتظر رہتے تھے اور جب حضرت غوث پاک انہیں طلب فرماتے تو اندر جاتے تھے اور گھر کے اندر آنے کے بعد بیٹھتے نہیں تھے بلکہ ادب سے کھڑے رہتے تھے۔ پھر حضرت غوث پاک انہیں بیٹھنے کا حکم دیتے تو تب کہتے کہ یا حضرت! ہمیں امان ہیں؟
حضرت غوث پاک کی طرف سے امان کا اشارہ پانے کے بعد وہ ادب کے ساتھ دو زانوں بیٹھ جاتے تھے۔
حضرت غوث پاک کی شخصیت میں جہاں اور بہت سی خوبیاں، کشش اور تاثیر تھیں وہیں ان کا انداز خطابت بھی بڑا دل موہ لینے والا اور بارعب تھا۔ جب وہ تقریر فرماتے تھے تو سننے والے اس قدر مدہوش ہو جاتے تھے کہ انہیں گردو پیش کا ہوش نہ رہتا تھا۔ تقریر کے علاوہ جب حضرت غوث پاک عام گفتگو فرماتے تھے تو وہ بھی بڑی اثر انگیز اور بامعنی ہوا کرتی تھی۔
:خوراک
حضرت غوث پاک رحمت اللہ علیہ کے روزمرہ معمولات
حضرت غوث پاک نہایت سادہ اور تھوڑی خوراک کھاتے تھے۔ جب وہ مجاہدے اور ریاضتیں کرتے تھے تو اس وقت تو 40 40 دن تک کچھ بھی نہ کھایا پیا کرتے تھے صرف خودرو جڑی بوٹیوں پر گزارا کرتے تھے لیکن جب رشد و ہدایت کا دور آیا تب بھی اکثر فقر وفاقہ کرتے تھے۔ ہفتے میں صرف دو دن یعنی پیر اور جمعہ کو کھانا کھاتے تھے۔ آپ کے کھانے میں نمک مرچ اور چکنائی نہیں ہوتی تھی۔ اکثر اوقات اپ گھی اور دودھ استعمال نہیں کرتے تھے لیکن چونکہ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کبھی کبھار عمدہ غذا بھی کھا لیا کرتے تھے اور کسی کی دعوت بھی قبول کر لیا کرتے تھے۔
Tags:
حضرت غوث پاک