Hazrat gous Pak رحمۃ اللّٰہ علیہ kay karamat:

 

  ~•••حضرت غوث پاک رحمتہ اللّہ علیہ کی کرامات•••~

حضرت غوث پاک رحمتہ اللّہ علیہ کی کرامات:

 حضرت غوث پاک کی کرامات کے سلسلہ میں اہم واقعات   درج ذیل ہیں ۔

  حضرت غوث پاک رحمتہ اللہ علیہ کی   پیدائش کے وقت کرامات:

 کتاب " مناقب غوثیہ" میں حضرت شیخ شہاب الدین   سہروردی سے منقول ہے کہ سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی   کی ولادت کے وقت غیب سے پانچ عظیم الشان کرامتوں کا   ظہور ہوا۔
 (الف) جس شب آپ کی پیدائش ہوئی اس رات آپ کے والد   ماجد حضرت سید ابو صالح نے خواب میں دیکھا کہ سرور   کائنات شافع محشر ، باعث قلیق کائنات حضرت محمد   مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلَّم مع صحابہ کرام ، آئمتہ   الہدیٰ اور اولیاء عظام کے ہمراہ آپ کے گھر میں رونق   افروز  ہیں ۔
  آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلَّم نے ان الفاظ سے حضرت   موسیٰ جنگی کو مخاطب فرمایا ۔
  "اے ابو صالح! اللّٰہ تعالیٰ نے تم کو ایسا فرزند عطا فرمایا   ہے جو ولی ہے۔ وہ میرا بیٹا ہے ۔ وہ میرا اور اللّٰہ تعالیٰ کا   محبوب ہے اور عنقریب اس کی اولیاء اللہ اور اقطاب میں   وہ شان ہوگی جو انبیاء اور مرسلین میں میری شان ہے ۔"
  بقول شاعر:
                 غوث  اعظم  درمیان  اولیاء"
                  "چوں  محمد  درمیاں  انبیاء 

 (ب)  حضرت غوث اعظم کی پیدائش کے وقت آپ کے   شانے  پر آقائے نامدار احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی   اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلَّم کے مبارک قدم کا نشان موجود تھا جو   آپ کے ولی کامل ہونے کی دلیل ہے ۔

 (ج) اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کے والدین کو عالم خواب میں بشارت   دی کہ جو لڑکا تمہارے ہاں پیدا ہوگا وہ سلطان الاولیاء   ہوگا  اور اس کا مخالف گمراہ اور  بد دین ہوگا ۔

 (د)  جس شب آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت ہوئی اس   رات جیلان میں جس عورت کے ہاں ولادت ہوئی وہ لڑکے   کی تھی اس رات کوئی لڑکی پیدا نہیں ہوئی اور سب سے   مبارک بات یہ ہے کہ آپ کے طفیل سے اس شب جنم پانے   پانے والا ہر لڑکا کسی نہ کسی سطح کا ولی بنا ۔


 رضاعت کے زمانے کی کرامات۔  


  بہت سے پاک رحمت اللہ علیہ کی ایک کرامات اپ کے   زمانے میں ظاہر ہو گئی تھی۔ اپ رمضان المبارک کے   مقدس  مہینے میں پیدا ہوئے۔ اپ نے پیدائش کے بعد ہی   رمضان کے دوران اپنی والدہ ماجدہ کا دودھ نہیں پیا۔ دن   میں اپ دودھ نہیں پیتے تھے۔ افطار کے بعد پیتے تھے۔ اس   وقت اندازہ ہو گیا کہ اپ مادر زاد ولی ہیں۔
  اگلے دو سال میں بھی حضرت غوث پاک رحمت اللہ علیہ   کا یہی معمول رہا یعنی جیسے ہی رمضان المبارک کا اغاز   ہوتا تھا اپ دن کے وقت دودھ پینا چھوڑ دیتے تھے۔ اس حوالے سے ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ جب اپ کی ولادت کے تیسرے برس جب اپ کی عمر مبارک دو سال تھی، یہ اختلاف ہو گیا کہ رمضان المبارک کا چاند ہوا ہے یا نہیں ہوا۔ یکم رمضان کو کچھ لوگ اپ کی والدہ ماجدہ کے پاس ائے اور دریافت کیا۔ ’’اج عبدالقادر نے دودھ پیا یا نہیں.‘‘

جب اپ کی والدہ حضرت فاطمہ نے انہیں بتایا۔

 ’’عبدالقادر نے دودھ نہیں پیا۔‘‘ تو وہ خوش خوش واپس چلے گئے اور اپنا روزہ پورا کیا۔


  دست مبارک اور انگشت مبارک کی کرامات:


حضرت غوث پاک رحمت اللہ تعالی علیہ جس کے دل پر  اپنا دست مبارک رکھ دیتے بہت تجلیات الٰہی کا مشاہدہ کر لیتا تھا۔ اس کے علاوہ حضرت کی انگشت مبارک بھی باکمال تھی۔ روایت ہے کہ ایک شب اپ شیخ احمد رفاعی اور عدی بن حاضر کے ہمراہ حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل کے مزار کی زیارت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ رات بہت تاریک تھی مگر جب اپ کسی قبر کے قریب یا سنگلاخ راستے سے گزرتے تو اپنی انگلی سے اشارہ فرماتے اور انگشت چاند کی مانند روشن ہو جاتی اور اپ اور اپ کے ہمراہی اس اُجالے میں باحفاظت اپنا راستہ طے کر لیتے۔ اس طرح اس انگلی کی روشنی میں سیدنا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے مزار تک پہنچ گئے۔

اس انگشت مبارک کے حوالے سے شیخ محمد بن کامل نیانی اپنے مرشد حضرت شیخ ابو محمد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ایک بار وہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی زیارت کے لیے بغداد گئے اور پھر طویل عرصے تک اپ کی خدمت میں حاضر اور خانقاہ مبارک میں مقیم رہے۔ پھر جب اپ مصر کے لیے روانہ ہوئے تو خیال ایا کہ یہ سفر صرف توَکّل الٰہی اور بغیر کسی زاد راہ کے طے کرنا چاہیے۔ اپ نے جب حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی سے اجازت طلب کی تو چونکہ وہ میرے دل کا راز جان چکے تھے اس لیے مجھے نصیحت فرمائی کہ میں کسی سے کچھ نہ مانگوں بعد ازاں اپ نے اپنی دو انگلیاں میرے منہ میں رکھیں اور فرمایا کہ انہیں چوس لوں، پھر فرمایا......"جاؤ ہدایت یافتہ اور راشد ہو کر۔" حضرت شیخ ابو محمد فرماتے ہیں کہ ان انگلیوں کے چوسنے سے میری بھوک پیاس بالکل مٹ گئی۔میں نے بغداد سے مصر کا سفر کچھ کھائے بغیر طے کیا۔ مگر اس دوران مجھے کسی قسم کی کمزوری یا ضعف لاحق نہ ہوا۔

                   

    طویل عمری میں نام کا اثر: 

        حضرت غوث پاک اپنے ایک کمسن مرید شیخ ابو عبداللہ محمد بن ابو الفتح اہروی کو محمد طویل کہہ کر مخاطب فرماتے ایک بار اُنہوں نے نہایت ادب کے ساتھ عرض کی۔ ’’حضور! میں تو بہت سے لوگوں سے چھوٹا یعنی کم عمر ہوں اور اپ نے محمد طویل کا لقب عطا فرمایا ہے۔‘‘  

تو اپ نے فرمایا کہ تم طویل العمر اور طویل الاسفار ہو۔ "یعنی تمہاری عمر بھی بہت زیادہ ہوگی اور تم بہت سفر کرو گے۔" اور پھر جیسا اپ نے فرمایا ویسا ہی ہوا۔ حضرت شیخ ابو عبداللہ نے لگ بھگ 137 برس کی عمر پائی اور خوب سیاحت کی۔ اپ نے کوہ قاف تک کا سفر کیا جہاں جنوں کا ڈیرہ تھا ۔


  نتیجہ: 

اس سبق میں ہم نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ تعالی علیہ کے کرامات کے بارے میں پڑھا۔ اس سبق کا خاصہ اتنا ہے کہ حضرت عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ تعالی علیہ پیدائشی طور پر ولی تھے جسے ہم مادر زاد ولی بھی کہتے ہیں۔ اور یہ معلوم بھی ہوا کہ حضرت غوث پاک کے شان میں پیدائش کے وقت سے حضرت محمد احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مبارک قدم کا نشان موجود تھا جو اپ کے ولی ہونے کی دلیل ہے۔اس کے علاوہ حضرت غوث پاک رحمت اللہ تعالی علیہ کے بہت سے اور بھی کرامات ہیں جو اس سبق میں موجود ہیں۔ 



جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم