حضرت غوث پاک کی تعلیم و تربیت
~•••• (تعلیم و تربیت)•••~
حضرت غوث پاک رحمت اللہ تعالی علیہ کو گھر سے ہی نہایت پاکیزہ اور مستند تعلیم و تربیت ملی۔ اپ کی والدہ کے تقوی اور پرہیزگاری اور ریاضت و عبادت میں بے مثل تھیں۔ گھر کی اچھی تعلیم و تربیت کی وجہ سے حضرت غوث پاک رحمت اللہ تعالی علیہ نے اگے چل کر علم و دانش میں نام پیدا کیا۔
حضرت کے سر پر والد کا سایہ زیادہ عرصہ تک قائم نہ رہ سکا، جب حضرت ابھی کم سن ہی تھے تو ان کے والد گرامی رحلت فرما گئے۔ یوں حضرت کی تعلیم و تربیت کا بوجھ والدہ کے کاندھوں پر آگیا اور ساتھ ہی حضرت کے نانا نے بھی اپ کی سرپرستی فرمائی۔
حضرت کے نانا جی علم دین تھے۔ انہوں نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رحمت اللہ تعالی انہما اور حضرت کے والد سید ابو صالح رحمۃ اللہ تعالی عنہ کی بھی خوب تربیت کی تھی اور اسی طرح وہ حضرت کی تربیت بھی کرتے تھے۔ چونکہ نانا اولاد نرینہ سے محروم تھے اس لیے انہوں نے حضرت کو بیٹوں ہی کی طرح پالا۔ نانا کو یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کا نواسہ گوہر نایاب ہے اور اس کی درست تربیت اسے بہت اعلی مقام دلا سکتی ہے۔ وہ حضرت کے مرشد اول بھی تھے۔
حضرت غوث پاک کو مادر شکم :میں علم سے نوازاگیا
حضرت غوث پاک رحمت اللہ تعالی علیہ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہیں شکم مادر میں علم سے نوازا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک روایت ہے کہ جب حضرت کو مدرسے میں داخل کرایا گیا تو استاد نے "بسم اللہ الرحمن الرحیم" پڑھنے کے لیے کہا تو حضرت نے نہ صرف بسم اللہ شریف پڑھی بلکہ کئی سپاروں کی تلاوت بھی کر ڈالی استاد نے سپاروں کے پارینہ پر حیرت سے استفسار کیا تو حضرت نے جواب دیا کہ میری والدہ کو سپارے حفظ ہیں اور جب میں مادر شکم میں تھا تو اس وقت وہ سپارہ پڑھا کرتی تھیں جنہیں سن کر میں یاد کر لیا کرتا تھا۔
اپ کو کم سنی سے ہی یہ پتہ تھا کہ اپ ولی مادرزاد ہیں۔ اس سلسلے میں حضرت کا ایک ارشاد ہے! ایک روز میرے قریب سے "ایک شخص گزرا جسے میں بالکل پہچانتا نہ تھا۔ اس نے فرشتوں کو کہتے ہوئے سنا۔ کشادہ ہو جاؤ تاکہ اللہ کا ولی بیٹھ جائے۔" ۔
"اس نے ایک فرشتے سے دریافت کیا یہ "لڑکا کس کا ہے؟ فرشتوں نے جواب دیا "یہ سادات کے گھرانے کا لڑکا ہے"۔ وہ بولا "یہ بڑی شان والا ہوگا۔
جب حضرت غوث پاک رحمت اللہ تعالی علیہ کی عمر 11 برس تھی تو ان کے نانا حضرت عبداللہ صولمعی رحلت فرما گئے۔ یوں حضرت کی تعلیم وہ تربیت کی تمام ذمہ داری ان کی والدہ کے کاندھوں پر آگئی۔ وہ اس وقت 70 برس کی تھی ان کی زیر نگرانی زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر حضرت نے 18 برس کی عمر میں خوب سرمایہ علم جمع کر لیا۔
:غیبی اشارہ
حضرت پاک نے بچپن فضول قسم کے کھیل کود اور مشغولوں سے دور رہ کر گزارا۔ جب اپ چار برس کے تھے تو اپ کی رسمی تعلیم کا اغاز کر دیا گیا۔ اُس وقت مادر شکم میں حفظ کرنے کی وجہ سے اپ کے سینے میں 18 سپارے موجود تھے۔
جب اپ دس برس کے ہوئے تو علمیت کی انتہا کو پہنچ گئے۔ اپ علم کی منزلیں طے کرتے چلے گئے اور جب اپ 18 برس کے ہوئے تو اپ کو علم حصول کے لیے غیبی اشارہ ہوا۔ اس تفصیل کچھ کو یوں ہے کہ ایک روز جب اپ سیر کی غرض سے گھر سے باہر نکلے تو اپ کے برابر سے ایک کسان کا بیل بھی نکلا وہ بیل کچھ آگے جا کر پلٹا اور اپ کی طرف دیکھ کر انسانی زبان میں بولا۔ ترجمہ "( اے عبدالقادر) تو اس لیے نہیں پیدا کیا گیا اور نہ تجھے اس کا حکم دیا گیا ہے ۔
حضرت نے ٹھٹک کر بیل کی بات پر غور کیا اور سمجھ گئے کہ انہیں غیبی اشارہ مل گیا ہے کہ وہ وقت ضائع نہ کریں اور علم حاصل کریں۔ چنانچہ وہ گھر آئے اور والدہ ماجدہ کو سارا قصہ سنا کر عرض کی کہ وہ حصول علم کے لیے بغداد جانا چاہتے ہیں۔ حضرت کی والدہ کی عمر اس وقت 87 برس تھی۔ کوئی اور سہارا نہ ہونے کی وجہ سے انہیں حضرت کی ضرورت تو تھی لیکن انہوں نے حضرت کو بخوشی جانے کی اجازت دے دی۔ اس زمانے میں بغداد دنیا بھر میں علم کا گہوارہ تسلیم کیا جاتا تھا۔
چالیس(40) دینار۔
جب حضرت گھر سے رخصت ہوئے تو اپ کی والدہ نے 40 دینار حضرت کی گوڈی میں بغل کے نیچے سی دیے تاکہ راستے میں کام آسکیں۔ اس زمانے میں جیلان اور بغداد کا درمیانی راستہ خطرناک تھا۔ رہزن کاروانوں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔
کاروبار روانہ کیا گیا۔ اس کارواں میں سب سے کم عمر مسافر حضرت غوث پاک تھے ہمدان تک اس کاروان نے خیریت سے سفر کیا لیکن اس سے اگے کوہستانی علاقہ تھا۔ وہاں 60 افراد پر مشتمل قزاقوں کے گروہ نے ان کے کارواں کو گھیر لیا۔ اس کارواں کا سردار احمد بدوی نامی ایک شخص تھا جو اس وقت کا مشہور ڈاکو تھا۔ قافلے والوں کو اس خطرناک گروہ کی اصلیت کا اندازہ تھا اس لیے قافلے نے ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ ڈاکوؤں نے قافلے والوں سے مال و اسباب لوٹ کر ایک جانب ڈھیر کر دیا تاکہ اس سے آپس میں تقسیم کر سکیں حضرت غوث پاک رحمۃ اللہ تعالی عنہ کے پاس ظاہری طور پر کوئی رقم نہیں تھی اس لیے خاموشی سے ایک جانب کھڑے رہے۔ اپ کو کم سن خیال کرتے ہوئے ڈاکوؤں نے اپ سے کوئی بات چیت نہ کی ایک قزاق نے ازراہ مذاق اپ سے کہا کہ اے لڑکے تیرے پاس بھی کچھ ہے حضرت نے بلا خوف و خطر جواب دیا ہاں میرے پاس 40 دینار ہیں ۔
ڈاکو حضرت کا جواب سن کر حیرت زدہ بھی ہوا پھر سمجھا کہ اپ اس سے مذاق کر رہے ہیں۔ وہ شش و پنج میں مبتلا ہو گیا اور اس نے اپ سے مزید بات نہ کی، پھر ایک اور ڈاکو نے اپ سے یہی سوال کیا اور اپ نے پھر بلا خوف و خطر سچائی بیان کی وہ ڈاکو اپ کو اپنے سردار احمد بدوی کے پاس لے گیا اور سردار سے کہا کہ یہ لڑکا ہم سے مذاق کرتا ہے۔ سردار نے حضرت سے بات کی اپ نے اسے بھی سچائی بتا دی۔ سردار نے اپ کی گوڈی اتروائی اور اس میں سے 40 دینار نکال کر حضرت سے بولا کہ اے لڑکے جب تمہاری رقم اتنی محفوظ تھی تو تم نے اسے کیوں ظاہر کیا۔ حضرت نے جواب دیا میری ماں نے مجھ سے کہا تھا کہ ہر حال میں سچ بولنا خواہ تمہاری جان پر بن جائے بھلا میں محض 40 دینار کے لیے اپنی پاک باز اور ضعیف العمر والدہ کی نصیحت کو کیوں نظر انداز کر سکتا تھا؟
حضرت کے جواب نے ڈاکوؤں پر سکتا طاری کر دیا اور ڈاکوؤں کا سردار احمد بدوی رونے لگا اور حضرت سے بولا کہ اے بچے تم نے اپنی ماں سے کیے گئے عہد کا اتنا خیال رکھا لعنت ہو مجھ پر اور مجھے افسوس ہے کہ میں سالہا سال سے اپنے پروردگار سے کیا گیا عہد توڑ رہا ہوں۔ اس کی ہچکی بندھ گئی۔ اس نے حضرت کے قدموں میں گر کر اپنے پیشہ رہزنی سے توبہ کی اور اپنے ساتھیوں کو ازاد کرتے ہوئے ان سے کہا کہ وہ جہاں جانا چاہیں جا سکتے ہیں۔ ساتھیوں نے کہا کہ اے سردار ہم رہزنی میں بھی تیرے ساتھ تھے اور اب توبہ میں بھی تیرے ساتھ شریک ہیں۔
بیان کیا گیا ہے کہ اپنی توبہ کی بدولت احمد بدوی اور تمام رہزن ولایت کی منزل پر پہنچ گئے۔ حضرت غوث پاک رحمت اللہ تعالی علیہ نے اس سلسلے میں فرمایا کہ یہ پہلی توبہ تھی جو گمراہ لوگوں نے میری بدولت کی۔
"!فرزند عبدالقادر"
جب حضرت بغداد میں داخل ہوئے تو 148 ہجری کا سال تھا۔ اس وقت رات کا کافی حصہ گزر چکا تھا۔ اور باران رحمت جاری تھی اپ کا میزبان حماد بن مسلم تھا۔ اپ اس کی خانقاہ پر پہنچے تو خانقاہ کا دروازہ بند تھا لہٰذا اپ نے خانقاہ کے بیرونی حصے کو رات گزارنے کے لیے منتخب کیا۔ جب صبح ہوئی تو اپ خانقاہ میں داخل ہوئے حضرت حماد بن مسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے گرم جوشی سے اپ کا معانقہ کیا ۔ حضرت حماد کی انکھوں سے انسو
(روا ہو گئے اور انہوں نے فرمایا ( فرزند عبدالقادر
فکر وہ تصوف کا خزانہ آج میرے پاس ہے کل یہ دولت گراں مایا تمہارے ہاتھوں میں سونپی جائے گی اسے احتیاط سے خرچ کرنا،، اور پھر عراق کی خوش قسمتی کے بارے میں فرمایا کہ سرزمین عراق تیرے اوپر ایک مقدس ہستی کا انا مبارک ہو۔ اب تجھ پر رحمت کی بدلیاں سایہ فگن ہوں گی اور علم وہ عرفان کی گھٹائیں برسیں گی۔ جس سے دینا کا قلوب و ارواح ہمیشہ کے لیے سر سبز وہ شاداب ہو جائیں گے۔ اب تیری سرزمین سے نقص و شیطان کی قہر سامانیوں کا صفایا ہو جائے گا اور ہزاروں جاہ وہ جلال اور عظمت و وقار کے ساتھ دین کی رحمت کا تخت پچھے گا۔
مرحبا! مرحبا! مرحبا! اے فرزند سعید ۔
یوں حضرت غوث پاک نے بغداد میں علم حصول شروع کیا اور اس سلسلہ میں مختلف علماء اور ائمہ کرام سے رجوع کیا۔