حضرت غوث پاک رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں بشارتیں:
حضرت غوث پاک رحمتہ اللّہ علیہ کے اس دنیا میں تشریف لانے سے کئی سو سال پہلے کئی علماء،صوفیاء،اولیاء اور صاحبان کشف و کرامات نے اپ کے اس دنیا میں تشریف لانے کی بشارت دی۔ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ حضرت غوث پاک کا کتنا بلند منصب،علمی قابلیت،درویش اور کرامات ہوں گی۔ ذیل میں ہم ایسی ہی کچھ بشارات کا تذکرہ کر رہے ہیں۔
شیخ ابو احمد عبداللہ الجوفی رحمتہ اللہ علیہ کی خلوت کے دوران ارشاد:
شیخ ابو احمد عبداللہ الجوفی رحمتہ اللہ علیہ جن کا لقب’بالحقی‘ تھا،انہوں نے 468 ہجری میں کوہ حرو میں اپنی خلوت کے دوران ارشاد فرمایا۔
"عنقریب بلاد عجم میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کو کرامت اور حوارق کی وجہ سے بہت شہرت حاصل ہوگی۔ اس کی تمام اولیاء الرحمن کے نزدیک مقبولیت نامہ حاصل ہوگی اس کی وجدباوجود سے اہل زمانہ شرف حاصل کریں گے۔اس کی زیارت کرنے والا نفع اٹھائے گا۔"
"عنقریب بلاد عجم میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کو کرامت اور حوارق کی وجہ سے بہت شہرت حاصل ہوگی۔ اس کی تمام اولیاء الرحمن کے نزدیک مقبولیت نامہ حاصل ہوگی اس کی وجدباوجود سے اہل زمانہ شرف حاصل کریں گے۔اس کی زیارت کرنے والا نفع اٹھائے گا۔"
حضرت امام یعقوب ہمدان سے روایت:
حضرت ابو عبداللہ علی ممتاز بزرگ امام یعقوب ہمدان کے مرشد تھے۔حضرت امام یعقوب ہمدان سے روایت ہے کہ میرے مرشد نے ایک بار مجھے بتایا کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی ولادت سے کئی برس پہلے انہوں نے حضرت ابو عبداللہ علی سے سنا کے زمانہ قریب میں ایک بزرگ کا ظہور سرزمین عراق میں ہوگا۔ جس کا نام عبدالقادر ہوگا اور اللہ تعالی نے اسے تمام اولیاء کا سرتاج بنایا ہے۔
حضرت شیخ خلیل بلغی پر کشفی حالت:
حضرت شیخ خلیل ایک صاحب کشف و کرامات بزرگ تھے۔ ایک دن مجلس میں درس دے رہے تھے کہ اپ پر کشفی حالت طاری ہوئی اس کیفیت میں اپ نے فرمایا۔اللہ کا ایک برگزیدہ بندہ سرزمین عراق میں پانچویں صدی کے آخر میں ظاہر ہوگا۔ دین حق کو اس کے دم سے فارغ ہوگا۔ وہ اپنے وقت کا غوث ہوگا۔ خالق خدا اس کی اتباع کرے گی اور وہ جملہ اولیاء اقتاب کا سردار ہوگا۔
حضرت شیخ خلیل بلغی، حضرت غوث پاک سے بہت عرصہ پہلے رحلت فرما گئے تھے۔
حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کو عالم غیب سے خبر:
حضرت جنید بغدادی کا اولیاء اللہ اور صوفیا میں بڑا اعلی مقام ہے۔اپ شیخ المشائخ بھی کہلاتے ہیں۔ حضرت غوث پاک سے دو سو سال پہلے اپ کا زمانہ گزرا ہے۔
ایک روز حضرت جنید بغدادی نے مراقبہ میں سے اچانک سر اٹھایا اور فرمایا۔’’مجھے عالم غیب سے اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ پانچویں حصول کے وسط میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اولاد اظہار میں سے ایک قطب عالم ہوگا جس کا لقب محی الدین اور اسم مبارک عبدالقادر ہوگا۔ وہ غوث الاعظم ہو گا اور گیلان میں اس کی پیدائش ہوگی۔ اسے خاتم النبین حضرت احمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اولاد میں سے آئمہ کرام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے علاوہ دیگر آنے والے اور ان سے پہلے کہ جملہِ ولیوں کے بارے میں یہ کہنے کا حق ہوگا کہ’’ان کی گردنوں پر میرا قدم ہے‘‘ (ازتفریح الخاطر)
حضرت خواجہ حسن بصری کی وضاحت:
محمد بن احمد سعید بن ذریعہ الزنجانی رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب" روضتہ النواظر" اور " نزاہت الخطواطر" کے باب ششم میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ کہ بلند مرتبہ کی شہادت دینے والے مشائخ کا ذکر فرماتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ اللہ کے ولیوں میں سے کوئی بھی حضرت کا مفکر نہ تھا بلکہ انہوں نے اپ کی امد کی بشارت دی ہے۔حضرت حسن بصری نے اپنے زمانہ مبارک سے حضرت سید عبدالقادر جیلانی کے اعلیٰ دور تک بالوضاحت آگاہ فرما دیا ہے کہ جتنے بھی اولیاء اللہ گزرے ہیں سب نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی خبر آمد دی ہے۔
Tags:
حضرت غوث پاک